اسلام آباد27ستمبر(آئی این ایس انڈیا؍ایس او نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک مرکزی رہنما اور موجودہ وفاقی حکومت میں وزیر خزانہ کے فرائض انجام دینے والے اسحاق ڈار پر ان کے خلاف بدعنوانی کے الزام میں کئی گئی تحقیقات کی روشنی میں باقاعدہ فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ ستائیس ستمبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اسحاق ڈار کے خلاف کی گئی چھان بین سے یہ ثابت ہو گیا تھا کہ ان کے اثاثوں کے مالیت ان کی طرف سے بتائی گئی ان کی آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔پاکستانی میڈیا کے مطابق اپنے خلاف سماعت کے وقت اسحاق ڈار ذاتی طور پر عدالت میں موجود تھے، جب عدالت کی سربراہی کرنے والے جج کی طرف سے ان کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے گئے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ ڈار نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی۔ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق اسحاق ڈار اپنے خلاف عدالتی کارروائی کے باوجود اس وقت تک وزیر کے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں، جب تک کہ عدالت انہیں اپنے فیصلے میں قصور وار قرار نہیں دے دیتی۔اس کے برعکس کئی اپوزیشن رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد مسلم لیگ نون کے اس رہنما کو اب وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز نہیں رہنا چاہیے بلکہ اخلاقی طور پر اپنی حکومتی ذمے داریوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ڈی پی اے نے مزید لکھا ہے کہ اسحاق ڈار کے اپنی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق ملکی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ انتہائی قریبی خاندانی روابط ہیں، جنہیں اسی سال جولائی میں پاکستانی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑ گیا تھا اور وہ قومی اسمبلی میں اپنی نشست سے بھی محروم ہو گئے تھے۔وزیر خزانہ ڈار پر عائد کردہ فرد جرم کے حوالے سے نیوز ایجنسی روئٹرز نے اسلام آباد سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز عدالت میں اپنی پیشی کے دوران ان الزامات کی پرزور تردید کی کہ ان کے اثاثوں کی مالیت ان کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک عہدیدار جان اچکزئی نے روئٹرز کو بتایا، ’’اسحاق ڈار نے آج عدالت کو بتا دیا کہ وہ بے قصور ہیں اور عدالت میں یہ ثابت کریں گے کہ ان کی ملکیت اثاثے جائز ہیں اور ان کا کسی بدعنوانی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘پاکستان میں موجودہ حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے متعدد اعلیٰ عہدیدار، جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی شامل ہیں، بالواسطہ طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف کے نااہل قرار دیے جانے میں ملک کی بہت طاقت ور فوج کا ہاتھ ہے جبکہ فوج کی طرف سے اس پورے معاملے میں اس کے نواز حکومت کے خلاف کسی بھی براہ راست یا بالواسطہ پس پردہ کردار کی تردید کی جاتی ہے۔